Blog

ہمارے بلاگ کے حصہ میں انٹرنیٹ پر موجود اردو کے معیاری مواد کو شائع کیا جاتا ہے۔ فی الوقت زیادہ تر مواد مشہور ویب سائٹ بلاگستان سے آپ تک پہنچایا جا رہا ہے۔
no-cover
Blog

میرا بچپن فوج اور فوجیوں سے عشق میں گزرا ہے، میں وہی بچہ ہوں جسے تصاویر میں آپ نے سڑک کنارے فوجیوں کی گزرتی گاڑیوں کو سیلوٹ کرتے ہوئے دیکھا ہوگا، یہ عشق اس لئے بھی ہے کہ میرے والد صاحب آنریری نائب صوبیدار ریٹائرڈ ہوئے، شاید اس فطری محبت کی وجہ سے بھی فوج میرے دل کے بہت قریب رہی ہے، میں وطن کی ناموس کے لئے مرنے والے ہر سپاہی کو اپنا بھائی سمجھتا ہوں۔ اپنے جسموں سے بم باندھ...

Sunday, 25 September 2016
Like
203
0
no-cover
Blog

پچھلے چار پانچ سالوں میں انٹرنیٹ پر لکھنے والوں کو خاموشی سے پڑھتے پڑھتے میں نے اکثر باتوں پر خاموشی اختیار کرنا ہی مناسب سمجھی ہے۔ ہمارے مذہبی دوست بڑے چھوٹی چھوٹی باتوں پر کفر اور ایمان تولنے لگ جاتے ہیں، میری تو مجال نہیں کہ ان کی دیوار پر جا کر کوئی لفظ لکھ پاوں، لیکن کیوں کہ میرا اپنا بلاگ ذرا ونچی آواز میں میرے خیالات کا مجموعہ ہی تو ہے اس لئے یہاں یہ بات کہنے میں...

Sunday, 25 September 2016
Like
225
0
no-cover
Blog

السلام علیکمپڑھنے اور سسنے والوں کے لئے یہ ویڈیوز شاید کسی کام آ سکیں، گذشتہ دنوں اسلامی جمیعت طلبہ کے زیر اہتمام سوشل میڈیا سمٹ کا اہتمام ہوا، اور مجھے بات کرنے کی دعوت دی گئی، عدم شرکت کی بنا پر اپنا ویڈیو پیغام بھیجا تھا، اس ویڈیو پیغام کو یہاں شئیر کیا جا رہا ہے تاکہ اور دوست بھی سن...

Sunday, 25 September 2016
Like
209
0
no-cover
Blog

لیجئے آج آپ کو میلان لئے چلتے ہیں، آبادی کے حساب سے اٹلی کا دوسرا بڑا شہر، سب سےاہم تجارتی مرکز، فیشن کی دنیا کے ڈھیروں رنگ لئے، یورپ کی چھبیس صدیوں کی تاریخ کا آئینہ دار ہے۔ اس خوبصورت شہر میں مجھے دو دن گذارنے کا موقع ملا، ہوٹل ریسپشن والے سے میں نے پوچھا کہ سب سے پہلے کہاں جائے جائے اس نے میلان کے مرکزی کیتھڈرل جانے کا مشورہ دیا۔ اس کیتھڈرل جاتے ہوئے ایک رنگ برنگی گلی...

Saturday, 17 September 2016
Like
205
0
no-cover
Blog

اس نے میرے بازو کو ہلکا سا ہلایا، میں جو ملتان سبزی منڈی کے فرشی سبزی سٹال دیکھنے میں منہمک تھا، اس نے توت کی شاخوں سے بنا ہوا ایک ٹوکرا اٹھا رکھا ، چہرے پر ایک اداسی اور خاص طرز کی سنجیدگی تھی، داڑھی اور سر کے بالوں میں سیاہ بال اب خال خال ہی نظر آتے تھے، ایک بوڑھا جو ساٹھ ستر کی پیٹے میں ہو گا کہہ رہا تھا باو جی میں آپ کی خریدی ہوئی سبزیاں گاڑی تک چھوڑ آوں، میں اس کو دیکھ...

Friday, 09 September 2016
Like
240
0
no-cover
Blog

ابھی ناروے کا ایک آن لائن اخبارمیرے سامنے کھلا پڑا ہے جس میں لکھا ہوا کہ پولیس آفیسر نے دوران ڈرائیونگ فون استعمال کرنے پر خود کو ہی جرمانہ کر لیا۔ ہوا کچھ ایسا کہ کسی نے اپنی فیس بک پر لکھا کہ میں دوران پٹرولنگ ایک پولیس آفیسر کو فون استعمال کرتے ہوئے دیکھا، اس کے بعد اس متعلقہ پولیس آفیسر نے کہا ہاں ایسا ہوا ہو سکتا ہے اور اس نے اپنے لئے 1300 سو کرون تقریبا 15000 ہزار...

Sunday, 28 August 2016
Like
218
0
no-cover
Blog

وہ جہاں ہر سیاح جانے کی خواہش کرتاہے۔ اس جگہ کا نام انٹرلاکن سوئٹرزلینڈ ہے۔ اس وادی کے بے شمار مناظر آپ نے بے شمار فلموں میں دیکھ رکھے ہوں گے۔ بالی وڈ سے لیکر ہالی وڈ تک بے شمار فلموں میں محبت اور جنگ کے لئے اس جگہ کے گردونواح کو فلمایا گیا ہے۔ سفر کی خواہش مجھے بھی اس شہر میں کھینچ لائی۔ لیکن میرا یہاں قیام ایک دن سے زیادہ کا نہ تھا۔ انٹرلاکن سے یورپ کے بلند ترین مقام...

Sunday, 28 August 2016
Like
215
0
no-cover
Blog

انٹرنیٹ کی سیر کرتے ہوئے جولیس یے گو کی کہانی پر نظر پڑی۔کینیا کا ایک عام سا شخص جس نے لوگوں کو نیزہ پھینکتے دیکھ کر سوچا کہ میں ان سے بہتر نیزہ پھینک سکتا ہوں، اس کے پاس رہنمائی کے لئے کوئی موجود نہ تھا، تیاری کے کچھ سازوسامان بھی میسر نہ تھا، مگر اس نے لکڑیوں کی نیزوں کی شکل میں ڈھالا اور یوٹیوب کی مدد سے خود اپنی استادی کرنے لگا، پھر یہی شخص کچھ عرصے میں اپنے ملک کا سب...

Saturday, 20 August 2016
Like
218
0
no-cover
Blog

بابا جی رومیو اور مائی جولیٹ کا نام کافی مشہور ہے، یہ مغرب کے ہیر رانجھا، سسی پنوں، اور سوہنی مہینوال قسم کے کے کردار ہیں، ان کی کہانی کو شکشپیر نے امر کر دیا، عباس تابش کا شعر تھا کہ یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں۔ یہ تصاویر اٹلی کے شہر ویرونہ کی ہیں، اور زیادہ تر تصاویر جولیٹ کے گھر کی ہیں۔ اگر آپ فکری طور پر بالغ نہیں تو تصاویر آپ کے...

Monday, 08 August 2016
Like
268
0
no-cover
Blog

بجھا جو روزں زنداں تو دل یہ سمجھا ہےتیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہو گی۔۔۔۔۔ہم پردیسیوں کے لئے وطن کی یادیں سانسوں کے ساتھ جڑی ڈور کی مانند ہیں، ہر خبر جو دیس والوں کے دلوں کو دہلاتی ہے پردیسوں کی روحوں کو تڑپا جاتی ہے۔ ۔۔زلزلے کا کوئی جھٹکا اخبار کی خبروں سے جونہی ٹکراتا ہے، ، ایک ضرب سی پردیسیوں کے دل کو لگتی ہے۔ جب کبھی وطن کسی مصیبت سے دوچار ہوتا ہے پردیسوں کی بے چینی حد...

Sunday, 07 August 2016
Like
215
0