رگا لیٹویا

Like
57
0
Friday, 05 January 2018
Blog

ٹالن سے سوا چار گھنٹے کی بس لیکر لیٹویا کے دارالحکومت رگا میں موجود ہوں، لکس ایکپریس نام کی یہ بس کمپنی خاصی جانی پہچانی سی لگی، سفر خاصا آرام دہ تھا چھ سات یورو زیادہ خرچ کر کے کچھ زیادہ بہتر سیٹ لینے کی آپشن موجود تھی جس سے فائدہ اٹھایا گیا تھا۔ گوگل نقشوں کے مطابق میرا ہوٹل بس سٹاپ سے تین چار کلومیٹر کی دوری پر تھا، موسم کے بارے میں خبر کچھ اچھی نہ تھی ، بارش کا امکان تھا لیکن ابھی مطلع صاف تھا، اس لئے سامان جو ایک بیگ پیک تھا اس کو کمر پر لادے ہی شہر کی سیر کا فیصلہ کیا گیا، اب شام ڈھلے سوچ رہا ہوں کہ سامان ہوٹل میں رکھ گیا ہوتا تو بھلا ہوتا۔ خیر رگا کے بس سٹاپ سے نکلتے ہی بائیں جانب بڑے بڑے شیڈ سے نظر آتے ہیں جیسے کسی انڈسٹری کا حصہ ہوں، مجھے جانا بھی اسی طرف تھا سو ان کو پاس سے دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ انڈور فارمر مارکیٹ طرز کی چیز ہے، پہلا شیڈ مچھلی اور دیگر آبی اشئیا خوردونوش سے متعلق تھا، یہاں کچی اور پکی دونوں طرح کی مچھلی دستیاب تھی، مچھلی کی کئی ایک اقسام کو فرائی کر کے رکھا گیا تھا، بھوک بھی تھی لیکن اس بازار کی بو سے ساری بھوک نجانے کہاں بھاگ گئی تھی، سالمن کے تلے ہوئے قتلے دکھا کر دل کو مائل بھی کیا لیکن دل نہیں مانا، کوئی دلیل نہ ملی تو خود کو یہ کہہ کر سمجھایا کہ پتا نہیں آئل کیسا استعمال کیا ہو گا، یہاں ان شیڈز کے باہر بھی خوب بازار سجا ہوا تھا، کوئی پھل بیچ رہا تھا اور کوئی سبزی، کوئی اپنے پھولوں کو پانی دینے میں مگن تھا اور کوئی آنے والے موسم سے متعلقہ کپڑے کی ریڑھی یا سٹال لگائے کھڑا تھا، باہر لگے ان سب سٹالز میں ایک بات مشترک تھی کہ یہ ٹھیلوں یا ریڑھیوں کی صورت میں تھے۔ ان سٹالز پر نوے فیصد سے زیادہ خواتین دکاندار تھیں، ایک دفعہ اس بات پر دھیان گیا تو مجھے باقی اندر کے سٹالز پر بھی ایسا ہی لگا کہ دکانداری کی فیلڈ جیسے خواتین نے سنبھال رکھی ہو، اپنے ہوٹل کے پاس ایک دو دکانوں پر نظر پڑی یہاں بھی خواتین دکاندارون کو براجمان پایا،
گوگل میپ کے مطابق سنٹرل سٹیشن نزدیک ہی تھا، ایک دو لوگوں سے پوچھا ان کو سمجھ نہیں آئی، ہاتھ کے اشارے سے ٹرین بنا کر بھی دکھائی جس کے بعد انہون نے بھی ہاتھ کے اشارے اور زبان سے کہنا شروع کردیا، نو انگلش ، نو انگلش۔۔۔۔۔مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہاں ہماری انگریزی کی دال نہیں گلنے والی، مزید کسی سے پوچھ کر وقت برباد کرتا سامنے سڑک کے دوسری طرف میکڈونلڈ نظر آیا سوچا کہ ناشتہ کیا جائے پھر کوئی اگلہ پروگرام ترتیب دیا جائے، یہاں پر میکڈونلڈ کا فش برگر مینو ٹالن سے ایک یورو سستہ تھا، ناشتہ کرنے کے بعد پھر سے سامان پشت پر باندھا اور سنٹرل اسٹیشن کی طرف چل دئے، سڑک پار کرنے کے لئے سرخ اشارے پر رکے تو وہاں چار پنجابی سرداروں سے ملاقات ہو گئی، یہ ٹورزم کی ڈگری کرنے چند روز پہلے ہی یہاں آئے تھے، دو کے سروں پر سرداری قائم تھی اور دو بنا پگڑی کے ہی تھے، پوچھا کہ یہاں کوئی ڈے پاس قسم کی چیز ہے، ان کو اندازہ نہ تھا، کہنے لگے ٹکٹ آفس تک لے چلتے ہیں، وہاں سے پتا چل سکتا ہے، جسے وہ ٹکٹ افس قسم کی چیز سمجھ رہے تھے وہ ٹرانسپورٹ منسٹری کا دفتر تھا، میرا اس کے اندر جانے کا دل نہ تھا لیکن پنجابی بھائیوں کی محبت کی خاطر اس دفتر کے اندر چلا گیا، ریسپشن والوں کو بھی انگریزی سمجھنا مشکل ہو رہا تھا، انہوں نے مجھے کسی اور دفتر کا بتایا جو مجھے سمجھ نہیں آیا، میں وہاں سے واپس نکل آیا اور سوچا کہ اب مزید اس ڈے پاس کے چکر میں وقت ضائع نہ کروں اور اسی طرح سامان اٹھائے شہر کی سیر پر نکل کھڑا ہوں، پہلی عمارت جس نے مجھے اپنی جانب بلایا دور سے ایک ہی کچھ عجیب و غریب سی لگ رہی تھی، یہ سانئیس اور ٹیکنالوجی سے متعلق کسی ادارے کی عمارت تھی، اسی عمارت کے باہر ایک جرمن سیاح سے ملاقات ہوئی، اس نے بات کا آغاز کیا کہ کوئی تصویر اچھی بھی آئی ہے کہ نہیں، میں نے کہا نہیں کیونکہ عمارت کی پشت پر سورج تھا، پوری عمارت کوکور کرنا مشکل ہو رہا تھا، اس نے پوچھا کیا کیا دیکھا، میں نے کہا کہ ابھی تو کچھ نہیں، اس نے کہا سب چیزیں چھوڑ کر اولڈ ٹاون چلے جاو، میں نے اولڈ ٹاون کی پھر سے راہ لی، یہ اسی طرف تھا جہاں میں سب سے پہلی دفعہ سنٹرل سٹیشن ڈھونڈنے نکلا تھا۔
رگا کا اولڈ ٹاون بھی بالکل اسی طرز کا تھا جس طرز کے پرانے قصبے پورے یورپ میں پندرھویں عیسوی میں پائے جاتے تھے، پتھریلی گلیاںم رنگ برنگے مکان، لیکن رگا کے اس اولڈ ٹاون میں ایک محلہ اور آٹھ آٹھ چرچ والی بات صادق لگی کہ ہر دوسری گلی میں ایک چرچ تھا اور وہ بھی خاصا بڑا، اتنے زیادہ اکھٹے چرچ مجھے ابھی تک کسی اور اولڈ ٹاون میں دکھائی نہیں دئیے۔
ان پرانے شہروں کی ایک خوبی مرکزیت بھی ہوتی ہے، تمام گلیاں آپ کو گھما پھرا کر وہیں لے آتی ہیں، انہیں گلیوں میں گھومتے گھومتے میں ٹاون ہال تک چلا آیا، اس سکوائر کے ایک طرف پرانا اور مشہور گرجا گھر ہے، جس کی بیرونی دیوار ابھی زیر تعمیر تھی، لیکن سیاحوں کی سہولت کے لئے اس دیوار کے سامنے اسی ڈیزائن کا پینا فلیکس آویزاں کیا گیا تھا تا کہ لوگوں کو اندازہ ہو سکے کہ یہاں کیا تعمیر کیا جا رہا ہے یا یہاں پہلے سے کیا موجود تھا۔
یہیں پرانے شہر کی سیر کروانے والی چھوٹی سی ریل گاڑی بھی موجد تھی، ایک دو شہر کی سیر کروانے والی کمپنی کے نمائیندے بھی ہم ایسے سیاحوں پر مسکراہٹیں نچھاور کر رہے تھے۔
اسی سکوائر سے چلتے چلتے میں ایک اور گرجا گھر کے سامنے جا پہنچا، اس گرجا گھر کی عمارت بھی بہت بلند و بالا اور پرشکوہ تھی، اس کے بالکل سامنے لٹویا ریڈیوکا دفتر تھا، اتنے میں ہلکی ہلکی بارش نے موسیفی آغاز کی، میں کچھ دیر کو رکا بھی لیکن اس بارش میں سکینڈے نیویا والی نرم مزاجی اور ہلکا پن تھا، اس لئے کو برداشت کرنے کو ہی ترجیح دی گئی، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی میرے پاس رگا کے لئے صرف ایک ہی دن تھا۔ پرانے شہر کی سبھی گلیوں میں گھومتا ہوا میں ایکسپلنڈیا تک چلا آیا، یہ ایک باغیچہ ہے جو رگا شہر کے عین وسط میں واقع ہے، اس کے بیچوں بیچ ایک نہر بھی بہتی ہے، جس میں فوارے لگائے ہیں، سیر کے لئے کچھ کشتیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، شہر کے درمیان میں یہ نخلستان بہت ہی بھلا معلوم ہوتا ہے۔
اسی باغ کے ایک طرف رشین طرز کا ایک بہت خوبصورت چرچ ہے، اس سے ملتا جلتا ایک چرچ میں نے ٹالن میں دیکھا تھا، بالکل اسی طرز کے ڈوم،جن پر شوخ رنگوں سے نقش و نگار بنائے گئے تھے اور محرابوں پر سنہری رنگ کیا گیا تھا، دور سے ہی اس چرچ کے مینارے دعوت نظارہ دے رہے تھے، ابھی میں ان کو دیکھنے مین محو تھا کہ ایک مجسمے پر نظر پڑی جس کے قدموں میں کسی نے تازہ پھول نچھاور کر رکھے تھے، یہ یہاں کے ایک مشہور شاعر کا مجسمہ تھا، پھر اس کے بعد اسی طرز کے درجنوں مجسمے دیکھنے کو ملے، کوئی موسیکار، کوئی مصور، شاعر یا قلمکار اور کئی ایک قدموں میں پھولوں کے گلدستے دیکھ کر یہاں کے لوگوں سے عجیب سے محبت محسوس ہوئی، ایسے لوگ جنہوں نے دوسو سال پرانے شاعر کے مجسمے پر بھی پھول نچھاور کر رکھے ہوں ایسے خوبصورت لوگ کو سلام پیش کرنے کو دل چاہا، اس باغیچے میں خزاں کی آمد کے آثار نظر آنے لگے تھے،، میں اس باغیچے سے گذر کر ان دو رویہ درختوں کی قطار کی طرف چلا آیا جو مجسمہ آزادی کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ سامنے دور ایک مینار سا نظر آرہا تھا جو لٹویا کا مینار آزادی تھا۔ شہر کے عین وسط میں درختوں کی یہ قطار بہت بھلی لگ رہی تھی، مجسمہ آزادی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد پھر سے پرانے شہر کی سرحد آغاز ہو رہی تھی جسے میں پہلے ہی دیکھ آیا تھا، اب مجھے پشت پر چھ سات کلو بوجھ لادے، کندھے پر کیمرے کا بیگ لٹکائے، اور ہاتھ میں کیمرہ تھامے چار سے پانچ گھنٹے ہونے والے تھے، کندھے درد کرنے لگے تھے، سوچا کہ اب سب کروں اور ہوٹل چلا جاوں، پھر سوچا کہ شاید ہوٹل جا کر واپس نہ آسکوں اور کچھ کھانے پینے کا اہتما م کر لوں، گوگل میں حلال فود نیر بائی تلاش کیا تو حسنہ کباب کا نام چلا آیا، کہہ رہا تھا کہ صرف چھ منٹ کی واک ہے، نجانے کیوں گوگل کی سمجھ بوجھ پر شک کرتے ہوئے ایک مارکیٹ میں جا گھسا اور ناکام و نامراد پھر سے اس کو فالو کیا اور بالاخر اس حسنہ کباب کو تلاش کر ہی لیا، ترکی اور عربی قسم کے میوزک کی آواز آ رہی تھی، آڈر دینے لگا تو مجھے شک کہ یہ تو ترکی نہیں لگ رہے، میں نے پوچھا پاکستانی ہو، کہنے لگا جی ہاں، پھر کیا بھوک لگی ہو، کھانے والی دکان پر پاکستانی مل جائے تو لطف دوبالا ہو جاتا ہے، ان کے پاس ترکی طرز کا شوراما تھا، مسلسل چلنے نے بھوک بڑھا رکھی تھی ، تھوڑا سپائسی سا شوارما کھایا تو سواد ہی آ گیا، کچھ دیر ان سے باتیں کیں، ان سے ہوٹل جانے والی ٹرام کا پتہ پوچھا تو ایک دوست باہر ٹرام تک چھوڑنے چلا آیا، سچ میں پردیس میں پاکستان کی محبت تازہ ہو گئی۔
اس پاکستانی دوست نے جس ٹرام کا پتہ بتایا تھا وہ مجھے نہیں ملی، وہاں ایک چائینزطالب علم کو ایڈریس دکھایا تو اس نے فورا کسی ایپلیکشن میں ایڈریس ڈال کر کہا کہ آپ اس طرف جانے والی کسی بھی ٹرام میں بیٹھ جائیں، یہ آپ کو پاس ہی اتار دیں گی، میں سب سے پہلے آنے والی ٹرام میں بیٹھ گیا، وہ چائینز طالب علم بھی وہیں تھا، اس نے کمال مہربانی سے میرے سٹاپ پر مجھے بتا دیا کہ یہاں آپ اتر جائیں، میں وہاں اتر کر گوگل کے نقشے کی مدد سے ہوٹل جا پہنچا، اتنا سستا تھری سٹار ہوٹل یہیں ممکن ہو سکتا تھا، میں نے سامان کا بوجھ کچھ کم کیا اور کیمرا تھا باہر چلا آیا، ہوٹل ریسپشن پر موجود خاتون سے ائیرپورٹ جانے کے متعلق معلومات لیں تو اس نے بتایا کے ساڑھے سات یورو میں ٹیکسی آپ کو ائیرپورٹ چھوڑ دے گی۔۔۔ساڑھے سات یورو مجھے حیرانی ہوئی، اور اگر یہاں سے سٹی سنٹر جانا ہو تو تین یورو۔۔۔۔یورپ کا پہلا شہر جہاں جا کر مجھے لگا کہ ٹیکسی بھی ذریعہ آمدورفت ہو سکتی ہے ابھی تک رگا ہی ہے۔ سکینڈنے نیویا میں ٹیکسی کا میٹر تقریبا اتنے پیسوں سے آغاز ہوتا ہے۔
اتنی سستی ٹرانسپورٹ کا سن کر پھر سٹی سنٹر چلا آیا، مینار آزادی کے سامنے موجود اوپرا ہاوس اور باغ کے ڈیزائن نے طبیعت پر بہت اچھا اثر چھوڑا، یہیں بنچ پر بیٹھی ایک مقامی لڑکی کو دیکھ کر اس خیال کی تصدیق ہوئی ہے یہاں لوگ خوبصورتی کی تلاش میں بھی آتے ہیں۔
یہیں پر گھومتے ہوئے پاکستان کباب کے نام پر نظر پڑی، یہ جگہ آزادی سکوائر کے پاس ہی تھی لیکن نجانے پہلے کیوں نہ ملی، پردیس میں پاکستانیوں کو مل کر اور پاکستان کا نام پڑھ کر ایسی ہی خوشی ملتی ہے جیسے کسی پرانے دوست سے اچانک ملاقات ہو جائے۔
چار ملکوں کے دارالحکومت میں سے میرا آخری سٹاپ یہی شہر تھا، کل صبح مجھے واپس کوپن ہیگن چلے جانا تھا، نجانے کیا بات تھی اس شہر میں، کہ بہت خوبصورت اور بھلا لگا، آج چار ماہ بعد بھی اس شہر کی گلیوں کا نقشہ یوں ذہن میں نقش ہے جیسے ابھی کل پرسوں ہی وہاں سے آیا ہوں۔Read more

share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *