تقریر کے اشعار

Like
380
0
Friday, 18 March 2016
Blog

صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہےخاک ایسے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہےبے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیںاور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کوہاتھ میں علم لیکر تم نہ اٹھ سکو لوگوکب تلک یہ خاموشی چلتے پھرتے زندانودیپ جس کا محلات ہی میں جلےچند لوگوں کی خوشیوں کو لیکر چلےوہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلےاپنے دستور کو صبح بے نور کومیں نہیں مانتا، میں نہیں مانتامیں خا ئف نہیں تختہ دار سےمیں بھی منصور ہو ں کہہ دو اغیار سےکیوں ڈراتے ہو زندان کی دیوار سےظلم کی بات کو، جہل کی رات کومیں نہیں مانتا ، میں نہیں مانتاتم نے لوٹاہے صدیوں ہمارا سکوںاب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوںچارہ گر میں تمہیں کس طرح کہوںتم نہیں چارہ گر، کوئی مانے مگرمیں نہیں مانتا، میں نہیں مانتایہ ملیں یہ جاگیریں کس کا خون پیتی ہیںبیرکوں میں یہ فوجیں کس کے بل پر جیتی ہیںکس کی محنتوں کا پھل واشنائیں کھاتی ہیںجھونپڑوں سے رونے کی کیوں صدا ئیں آتی ہیںجب شباب پر آکر کھیٹ لہلہا تا ہےکس نے نین روتے ہیں کون مسکراتا ہےکاش تم کبھی سمجھو کاش تم کبھی جانو*****بولنے پہ پابندی سوچنے پہ تعزریںپاؤں میں غلامی کی آج بھی ہیں زنجیریںآج حرف آخر ہے بات چند لوگوں کیدن ہے چند لوگوں کا رات چند لوگوں کیاٹھ کے درمندوں کے صبح و شام بدبو بھیجس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدبو بھیدوستوں کو پہچانو دشمنوں کی پہچانو*****لائسنسوں کا موسم ہے کنونشن کو کیا غم ہےآج حکومت کے در پر ہر شاہین کا سر خم ہے*****عام ہوئی غنڈا گردی چپ ہیں سپاہی با وردیشمع نوائے اہل سخن کالے باغ نے گم کردی
دشمنوں نے جو دشمنی کہ ہےدوستوں نے بھی کیا کمی کی ہےخا شی پر س لوگ زیر عتاباور ہم نے تو بات بھی کی ہےمطمئن ہے ضمیر تو اپنابات ساری ضمیر ہی کی ہے
شاعر حبیب جالب
Read more

share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *